Skip to main content

International Day of Gratitude! شکریہ کا عالمی دن!world gratitude day 2023!

sadeerah.blogspot.com
love for all



 شکریہ کا عالمی دن!

پوری دنیا میں 11جنوری کو عالمی طور پر شکریہ کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔دنوں کو منانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام میں ان کی اہمیت کے بارے شعور و آگائی آسکے ۔دنوں کی نسبت سے مختلف سیمینارز اور ٹاک شوز کا ا نعقاد کیا جاتا ہے تاکہ ان کی اہمیت اچھے سے ان لوگوں کو سمجھ آ سکے جن کو ان کے بارے میں علم نہیں ہوتا ۔
شکریہ بنیادی طور پر اس احساس کا نام ہے جس سے ہم دوسرے کی قدر اور عزت افزائی کا اظہار کرتے ہیں یعنی کسی کے کسی بھی عمل سے ہم متاثرہو کر اس کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے لیے سب سے پہلا لفظ جو ہم ادا کریں گے وہ ہے ،،شکریہ ،،۔مثال کے طور پر ایک آدمی آپکو ایک پانی کا گلاس پینے کے لیے دیتا ہے اس کے جواب میں آپ اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔فرض کر لیں آپ اس کا شکریہ نہ بھی ادا کریں اس کے عمل پر یا نیکی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔لیکن اگر آپ اس کا شکریہ ادا کرتے ہو تو آپ کے یہ دو بول مقنا طیسی قوت کے عامل ہیں یہ اس شخص کا حوصلہ بڑھا دیں گے ۔یوں اس شخص میں اوروں کے لیے بھی ایسا عمل کرنےکا جذبہ پیدا ہو گا یوں ہم ایک ایسے معاشرے کی جانب گامزن ہونگے جس میں اچھا عمل کرنے کا رجعان ہو گا ۔اس لیے شکریہ ادا کرنے کی عادت ڈالیں لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں کیونکہ اس سے آپکا کچھ نہیں جاتا ا ور دوسرے کی مدد ہوتی ہے یعنی اس کو توانائی ملتی ہے ۔
 

Comments

Popular posts from this blog

عمل سے بنتی ہے زندگی جنت بھی اور جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری (علامہ اقبال )

  عمل س ے بنتی ہے زندگی جنت ب ھ ی اور   ج ہ نم ب ھ ی ی ہ خاکی اپنی فطرت می ں ن ہ نوری ہے ن ہ ناری                                     (علام ہ اقبال ) کسی کو وش کرنا ہو کسی کو کس کرنا ہو کسی کو ملنا ہو کسی کو بہت مس کرنا ہو                                         خریدار بلانا ہو کہ خریداری کرنی ہو                                        حا ل پوچھنا ہو کسی کی تیمارداری کرنی ہو وائے ناٹ مری جاں دل سے کھیل کھیل دل میں ہے مور سے زیادہ او نو نو عوام مشکل میں ہے                    ...

LINK ANAYLICES

  <iframe width="1100" height="200" allowtransparency="true" frameborder="0" id="0b4843" scrolling="no" src="https://bailey.sh/seostudio/demo/standard/embed.php?id=link-analysis&h=0&r=0b4843"></iframe> <script type="text/javascript"> (function(id) { var eventMethod = (window.addEventListener ? "addEventListener" : "attachEvent"), lh = -1; window[eventMethod](eventMethod == "attachEvent" ? "onmessage" : "message", function(e) { if (e.data.indexOf(id + ':') != 0) return; var h = parseInt(e.data.substring(id.length + 1), 10); if (lh != h) document.getElementById(id).style.height = h + 'px'; lh = h; }, false); })("0b4843"); </script>

Ideal social life .don,t tell a lie

 جھوٹ اور انسانی معاشرہ ۔۔ بنی نوع انسان کی ترقی کسی شارٹ ٹرم پالیسی کے نتیجے میں ممکن نہیں اس کے لیے جہد مسلسل می ضورت ہوتی ہے اور دنیا میں وہی اقوام رتبہ اور عزت پاتی ہیں جو محنت کو اپنا شعار بناتی ہیں ۔جو اقوام ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتی ہیں وہ کسی معجزے کے نتیجے میں نہیں بلکہ محنت کو معجزہ بنا دیتی ہیں جب جب کوئی معاشرہ یا قوم محنت اور جہد مسلسل پر سچے دل سے کاربند ہو جاتی ہے اس کے لیے تحقیق کے دروازے کھلتے جاتے ہیں اور ان کی بلندیوں کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔لیکن بد قسمتی سے اگر کسی معاشرے میں سستی اور کائلی کی بری روایات یا عادات پیدا ہو جاتی ہیں تو ان کی ترقی کا سفر نہ صرف رک جاتا ہے بلکہ ان میں ترقی کے شارٹ روٹس پکڑنے کا رجعان پیدا ہو جاتا ہے ،کوئی بھی فرد یا معاشرہ اگر شارٹ کٹ کے ذریعے ترقی کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس معاشرہ مٰیں ایک برائی لازماََ نظر آئے گی اور وہ برائی ہے ،جھوٹ ، جھوٹ ایک لعنت ، جھوٹ ایک ایسی لعنت ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد پھرکسی بھی مذید برائی کے پیدا ہونے کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں مثال ...