خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے پھوچھے بتا تری رضاء کیا ہے
عمل سے بنتی ہے زندگی جنت بھی اور جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ضمیر جاگ ہی جاتا ہے ،اگر زندہ ہو اقبال
کبھی گناہ سے پہلے، کبھی گناہ کے بعد
کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے
وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرےپروردگار سے
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نیہں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہءِ گندم کوآگ لگادو
کسی کی نظر میں اچھے تھے ،کسی کی نظر میں برے تھے
حقیقت میں جو جیسا تھا ،ہم اسکی نظر میں ویسے تھے
اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مر مر پپہ چلو گے توپھسل جائوگے
تندئِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانےکیلیے
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو صنم آشنا، تجھےکیا ملے گا نماز میں
خواءشیں تو بادشاءوں کو غلام بنا دیتی ہیں
مگر، صبر غلاموں کوبادشا بنا دیتا ہے
جھوٹ اور انسانی معاشرہ ۔۔ بنی نوع انسان کی ترقی کسی شارٹ ٹرم پالیسی کے نتیجے میں ممکن نہیں اس کے لیے جہد مسلسل می ضورت ہوتی ہے اور دنیا میں وہی اقوام رتبہ اور عزت پاتی ہیں جو محنت کو اپنا شعار بناتی ہیں ۔جو اقوام ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتی ہیں وہ کسی معجزے کے نتیجے میں نہیں بلکہ محنت کو معجزہ بنا دیتی ہیں جب جب کوئی معاشرہ یا قوم محنت اور جہد مسلسل پر سچے دل سے کاربند ہو جاتی ہے اس کے لیے تحقیق کے دروازے کھلتے جاتے ہیں اور ان کی بلندیوں کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔لیکن بد قسمتی سے اگر کسی معاشرے میں سستی اور کائلی کی بری روایات یا عادات پیدا ہو جاتی ہیں تو ان کی ترقی کا سفر نہ صرف رک جاتا ہے بلکہ ان میں ترقی کے شارٹ روٹس پکڑنے کا رجعان پیدا ہو جاتا ہے ،کوئی بھی فرد یا معاشرہ اگر شارٹ کٹ کے ذریعے ترقی کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس معاشرہ مٰیں ایک برائی لازماََ نظر آئے گی اور وہ برائی ہے ،جھوٹ ، جھوٹ ایک لعنت ، جھوٹ ایک ایسی لعنت ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد پھرکسی بھی مذید برائی کے پیدا ہونے کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں مثال ...

Comments
Post a Comment