خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے پھوچھے بتا تری رضاء کیا ہے
عمل سے بنتی ہے زندگی جنت بھی اور جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ضمیر جاگ ہی جاتا ہے ،اگر زندہ ہو اقبال
کبھی گناہ سے پہلے، کبھی گناہ کے بعد
کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے
وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرےپروردگار سے
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نیہں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہءِ گندم کوآگ لگادو
کسی کی نظر میں اچھے تھے ،کسی کی نظر میں برے تھے
حقیقت میں جو جیسا تھا ،ہم اسکی نظر میں ویسے تھے
اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مر مر پپہ چلو گے توپھسل جائوگے
تندئِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانےکیلیے
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو صنم آشنا، تجھےکیا ملے گا نماز میں
خواءشیں تو بادشاءوں کو غلام بنا دیتی ہیں
مگر، صبر غلاموں کوبادشا بنا دیتا ہے
عمل س ے بنتی ہے زندگی جنت ب ھ ی اور ج ہ نم ب ھ ی ی ہ خاکی اپنی فطرت می ں ن ہ نوری ہے ن ہ ناری (علام ہ اقبال ) کسی کو وش کرنا ہو کسی کو کس کرنا ہو کسی کو ملنا ہو کسی کو بہت مس کرنا ہو خریدار بلانا ہو کہ خریداری کرنی ہو حا ل پوچھنا ہو کسی کی تیمارداری کرنی ہو وائے ناٹ مری جاں دل سے کھیل کھیل دل میں ہے مور سے زیادہ او نو نو عوام مشکل میں ہے ...

Comments
Post a Comment