Skip to main content

? T TWENTY WORLD CUP PAKISTAN WIN

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کرکٹ کا سب سے بڑا میلا،ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اپنی تمام رعناعیوں،دلچسپیوں،اور شائقین کی محبتیں سمیٹتے اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے اس ورلڈ کپ نے ویور شپ میں تمام ورلڈکپس کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔اسی طرح گراؤنڈ میں موجود شائقین کی تعداد کے اعتبار سے بھی یہ ورلڈ کپ تاریخی ثابت ہواہے۔ اسی طرح چند ایک میچز کے بارش سے متاثر ہونے کے سوا مکمل طور پر ایک ڈسپلن ورلڈ کپ ثابت ہوا ہے، جس پر کرکٹ اسٹریلیا مبارک باد کی مستحق ہے۔اب اتوار کو نئے عالمی چمپین کا فیصلہ ہو جائے گا۔موسم کا حال بتانے والوں کا خیال ہے کہ اتوار کو بارش کا امکان ہے اس طرح ریزرو دن یعنی پیر کو بھی بارش کا امکان موجود رہے گا،لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ اسٹریلیا کے موسم اور پاکستان کی سیاست کے بارے میں،پری ڈکٹ، کرنا اپنی کریڈیبلیٹی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ فائنل سے پہلے ذرہ پورے ورلڈ کپ پر ایک نگاہ دوڑا لیتے ہیں،گروپ ون میں موجود ٹیموں میں اسٹریلیا،نیوزی لینڈ،سری لنکا اور انگلینڈ میں سے کرکٹ پنڈتوں اور تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ ا سٹریلیا،انگلینڈ سیمی فائنل تک جائیں گے لیکن اسٹریلیا کی افتتاعی میچ کی ہار سے اسے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا،نیوزی لینڈ نے جو مومینٹم افتتاعی میچ سے حاصل کیا وہ گروپ سٹیج تک جاری رہا۔حسب روایت نیوزی لینڈ سیمی فائنل کھیلنے میں کامیاب رہا۔ہارٹ فیورٹ اسٹریلیاکو ٹورنانمنٹ سے باہر ہونا پڑا،البتہ انگلینڈ اگر مگر کی کیفیت سے گزر کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور پھر بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا۔ گروپ ٹو میں موجود پاکستان، بھارت،جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش میں تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق بھارت اور جنوبی افریقہ سیمی فائنل کھیلنے والے تھے۔لیکن سب کچھ بدل گیا اگر نہیں بدلا تو جنوبی افریقہ کی،قسمت اور پاکستان کا انداز،ہمیشہ کی طرح جنوبی افریقہ اہم میچ میں کمزور ٹیم،نیدر لینڈ، سے ہار کر ٹورنانمنٹ کی دوڑ سے نکل گیا۔البتہ پاکستان کے لیے سیمی فائنل کی راہ ہموار کر گیا،سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ پاکستان کے لیے آسان حریف ثابت ہوا،او ر فائنل میں پہنچ کر پاکستان نے کھیلوں کے تمام پنڈتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس ورلڈ کپ کی 1992ورلڈ کپ سے بہت مماثلت ہے ۱ فائنل میلبرن کرکٹ گراؤنڈ ۲ حریف ٹیم انگلینڈ ۳ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرانا ۴ گروپ سٹیج سے فائنل فور کا ٹکٹ بمشکل ملنا ۵ ابتدائی دو میچ ہار کر کم بیک کرنا سو تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے میرا تو مشورہ ہے آپ ابھی سے جشن منانے کی تیاری کر لیں،کیا خیا ل ہے آپکا؟

Comments

Popular posts from this blog

کراچی ٹیسٹ

کراچی ٹیسٹ ۔ نیوزی لینڈ کے خلاف جاری سیریز کا انجام بھی انگلینڈ سے مختلف نہیں نظر آ رہا کیونکہ حریف کوئی بھی ہو ہمارا اپنا مزاج ہے ہم اس خول سے باہر آنے کو تیار نہیں سو بات کر لیتے ہیں جاری ٹیسٹ کی تو جناب نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن کی شاندار ڈبل سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز 600 سے زائد سکور کرنے کے بعد ڈکلئیر کر دی ہے اس طرح اسے پاکستان کے خلاف اب 170 کے لگھ بھگ لیڈ حاصل ہو گئی ہے اور ابھی کھیل میں 4 سے زائد سیشن باقی ہیں ظاہر ہے آپ نے درست اندازہ لگا لیا ،جی ہاں اب پاکستان کی جیت کا تو 0٪ بھی چانس نہیں ہے لیکن اس میچ پر نیوزی لینڈ کی گرفت مظبوط ہو چکی ہے اگر پاکستان کی ٹیم کم از کم 3 سیشن کھیلے اور 150 سے زائد سکور کر لے تو اس میچ میں مقابلہ ہو گا لیکن اگر پاکستان کی ٹیم اس میچ میں اپنی وکٹس تھرو کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی تو بہت کم چانس ہو گا کہ اس میچ کو بچایا جا سکے سرفراز کا کم بیک اور اس اننگز یعنی دوسری اننگز میں اس کا رول بہت اہم ہو گا لگ ایسے ہی رہا ہے کہ ہم بہت جلد سرفراز کو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں دوبارہ ایک کپتان کے طور پر دیکھ پائیں گے اگر پاکستا...

عمل سے بنتی ہے زندگی جنت بھی اور جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری (علامہ اقبال )

  عمل س ے بنتی ہے زندگی جنت ب ھ ی اور   ج ہ نم ب ھ ی ی ہ خاکی اپنی فطرت می ں ن ہ نوری ہے ن ہ ناری                                     (علام ہ اقبال ) کسی کو وش کرنا ہو کسی کو کس کرنا ہو کسی کو ملنا ہو کسی کو بہت مس کرنا ہو                                         خریدار بلانا ہو کہ خریداری کرنی ہو                                        حا ل پوچھنا ہو کسی کی تیمارداری کرنی ہو وائے ناٹ مری جاں دل سے کھیل کھیل دل میں ہے مور سے زیادہ او نو نو عوام مشکل میں ہے                    ...

Ideal social life .don,t tell a lie

 جھوٹ اور انسانی معاشرہ ۔۔ بنی نوع انسان کی ترقی کسی شارٹ ٹرم پالیسی کے نتیجے میں ممکن نہیں اس کے لیے جہد مسلسل می ضورت ہوتی ہے اور دنیا میں وہی اقوام رتبہ اور عزت پاتی ہیں جو محنت کو اپنا شعار بناتی ہیں ۔جو اقوام ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتی ہیں وہ کسی معجزے کے نتیجے میں نہیں بلکہ محنت کو معجزہ بنا دیتی ہیں جب جب کوئی معاشرہ یا قوم محنت اور جہد مسلسل پر سچے دل سے کاربند ہو جاتی ہے اس کے لیے تحقیق کے دروازے کھلتے جاتے ہیں اور ان کی بلندیوں کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔لیکن بد قسمتی سے اگر کسی معاشرے میں سستی اور کائلی کی بری روایات یا عادات پیدا ہو جاتی ہیں تو ان کی ترقی کا سفر نہ صرف رک جاتا ہے بلکہ ان میں ترقی کے شارٹ روٹس پکڑنے کا رجعان پیدا ہو جاتا ہے ،کوئی بھی فرد یا معاشرہ اگر شارٹ کٹ کے ذریعے ترقی کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس معاشرہ مٰیں ایک برائی لازماََ نظر آئے گی اور وہ برائی ہے ،جھوٹ ، جھوٹ ایک لعنت ، جھوٹ ایک ایسی لعنت ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد پھرکسی بھی مذید برائی کے پیدا ہونے کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں مثال ...